المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
عبد الله بن عمرو بن العاص، عن أبي ثعلبة باب: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَفْتِنِي فِي اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «مَا وُجِدَتْ فِي طَرِيقٍ مَيْتَاءَ أَوْ عَامِرَةٍ فَعَرِّفْهُ سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ صَاحِبَهُ فَلَكَ، وَمَا وَجَدْتَ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ عَامِرَةٍ أَوْ طَرِيقٍ غَيْرِ مَيْتَاءَ فَفِيهِ الْخُمُسُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: «كُلْ مَا رَدَّتْ إلَيْكَ قَوْسُكَ» قُلْتُ: فَإِنَّ تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: «وَإِنْ تَوَارَى عَنْكَ بَعْدَ أَنْ لَا تَرَى فِيهِ أَثَرَ سَهْمٍ أَوْ نَصْلٍ»سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گری پڑی چیز کے بارے میں بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی چیز آباد یا غیر آباد راستے میں ملے، اسے ایک سال تک پہچنوایا جائے، اگر اس کا مالک نہ ملے تو وہ تیری ہے، اور جو چیز کسی غیر آباد بستی یا غیر آباد راستے میں ملے، اس میں خُمس (پانچواں حصہ) ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری کمان کے بارے میں مجھے بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تیری کمان واپس لے آئے، اسے کھا لے۔“ میں نے عرض کیا: اگر وہ مجھ سے اوجھل ہو جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ تجھ سے اوجھل ہو جائے، بشرطیکہ تُو اس میں تیر یا پھل کا نشان نہ دیکھے۔“