حدیث نمبر: 18720
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَزِيدَ، أَحَدَ بَنِي سَعْدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، أَخْبَرَهُ أَبُو شُرَيْحِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِيِّ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَنِي كَعْبٍ يَوْمَ الْفَتْحِ لَقُوا رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ كَانُوا يَطْلُبُونَهُ بِذَحْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْحَرَمِ يَؤُمُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُهُ غَضِبَ أَشَدَّ غَضْبَةٍ غَضِبَهَا فَسَعَتْ بَنُو كَعْبٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَشْفِعُونَهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: " أَمَا بَعْدُ، فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَإِنَّمَا أَحَلَّهَا اللهُ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ أَمْسِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَمَا حَرَّمَهَا اللهُ، وَإِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللهِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ قَتَلَ فِيهَا وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتَلِهِ بِذَحْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَدِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي أَصَبْتُمْ " قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا ابو شریح بن عمرو خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، کہ فتح مکہ کے دن بنو کعب کی ہذیل کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی جس سے وہ زمانہ جاہلیت کے کسی بدلے کی تلاش میں تھے، وہ حرم میں تھا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف اسلام پر بیعت کرنے کے لیے جا رہا تھا، تو انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ کو بہت سخت غصہ آیا۔ بنو کعب سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف دوڑے تاکہ وہ نبی کریم ﷺ سے ان کی سفارش کریں۔ جب شام ہوئی تو آپ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی وہ حمد و ثنا بیان کی جو اس کے شایانِ شان تھی، پھر فرمایا: ”امابعد! بے شک اللہ نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا، اور اللہ نے اسے صرف کل دن کی ایک گھڑی کے لیے میرے لیے حلال کیا تھا، پھر یہ اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ اور بے شک اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ دشمن تین لوگ ہیں: ایک وہ جو یہاں قتل کرے، اور ایک وہ جو زمانہ جاہلیت کے کسی بدلے کی خاطر اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے۔ اور اللہ کی قسم! میں ضرور اس آدمی کی دیت ادا کروں گا جسے تم نے قتل کیا ہے۔“ ابو شریح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت ادا کر دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18720
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 191، حدیث 500