حدیث نمبر: 18696
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ» قَالُوا: وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثٌ، وَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ، وَلَا يَثْوِي عِنْدَهُ حَتَّى يُخْرِجَهُ» وَقَالَ: «وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخَرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ

سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ ﷺ نے یہ بات فرمائی: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اس کی مہمان نوازی۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی مہمان نوازی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات، اور مہمانی تین دن ہے، اس کے بعد جو کچھ ہو وہ اس میزبان کی طرف سے صدقہ ہے، اور وہ اس کے پاس اتنا نہ ٹھہرے کہ اسے نکالنا پڑے۔“ اور فرمایا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18696
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 182، حدیث 476