المعجم الكبير للطبراني
باب الهاء— حرف ہا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
هشام بن العاص بن وائل السهمي باب: سیدنا ہشام بن عاص بن وائل سہمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ: " مَا لِمَنِ افْتُتِنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣] إِلَى قَوْلِهِ {يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الزمر: ٥٥] ، فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمَّا جَاءَتْنِي صَعِدْتُ بِهَا كَذَا أُصُوِّتُ بِهَا، وَأَقُولُ فَلَا أَفْهَمْهَا، فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي أَنَّهَا أُنْزِلَتْ فِينَا، وَمَا كُنَّا نَقُولُ، فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي، ثُمَّ لَحِقْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ بِالْهِجْرَةِ وَلِأَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ قَدِمُوا أَرْسَالًا، وَقَدْ أَقَامَ أَبُو بَكْرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ بِالْمَسِيرِ لَهُ وَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهِجْرَةِ فَقَالَ: «لَا تَعْجَلْ؛ لَعَلَّ اللهَ يَجْعَلُ لَكَ صَاحِبًا» فَطَمَعَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ أَعَدَّ لِذَلِكَ رَاحِلَتَيْنِ يَعْلِفُهُمَا فِي دَارِهِ "سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم کہا کرتے تھے: جو شخص فتنے میں مبتلا ہو کر اپنے اسلام اور معرفت کے بعد اپنا دین چھوڑ دے، اس کے لیے کوئی توبہ نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سارے گناہ بخش دیتا ہے، بے شک وہی بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے“ سے لے کر اس کے اس قول تک: ”کہیں تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“ [الزمر: 53-55] تو میں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا، پھر اسے سیدنا ہشام بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ ہشام کہتے ہیں: جب وہ (خط) میرے پاس پہنچا تو میں اسے اٹھا کر بلند آواز سے پڑھنے لگا، اور جو کچھ کہہ رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، پھر میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی کہ یہ ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسی بات کے بارے میں جو ہم کہا کرتے تھے۔ چنانچہ میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور مدینہ جا پہنچا، اور رسول اللہ ﷺ اس انتظار میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ انہیں اور ان کے مہاجر صحابہ کو ہجرت کی اجازت دی جائے، اور وہ قافلہ در قافلہ آ رہے تھے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ٹھہرے رہے، اس انتظار میں کہ انہیں ہجرت کے لیے روانگی کی اجازت دی جائے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جلدی نہ کرو، شاید اللہ تمہارے لیے کوئی ساتھی مقرر کر دے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امید ہوئی کہ اس ساتھی سے رسول اللہ ﷺ کی مراد خود آپ ﷺ ہیں، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے دو سواریاں تیار کر رکھی تھیں جنہیں وہ اپنے گھر میں چارہ کھلاتے تھے۔