❮
❯
حدیث نمبر: 18630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ: أَنَّ الْوَلِيدَ كَانَ مَحْبُوسًا بِمَكَّةَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ بَاعَ مَالًا لَهُ يُقَالُ لَهُ الْمَنَا بِنَاقَةٍ بِالطَّائِفِ وَقَالَ: "
[البحر الرجز]
وَلَدُ هَاجِرْ وَبِعْ عِلْمَ بَاقَةْ ... ثُمَّ اشْتَرِ بِهَا حَبْلًا وَنَاقَةْ
ثُمَّ ارْمِهِمْ بِنَفْسِكَ الْمُشْتَاقَةْ
فَوَجَدَ غَفَلَةً مِنَ الْقَوْمِ عَنْهُ فَخَرَجَ هُوَ وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامٍ مُشَاةً يَخَافُونَ الطَّلَبَ فَسَعَوْا حَتَّى تَعِبُوا وَقَصَّرَ الْوَلِيدُ فَقَالَ:
يَا قَدَمَيَّ أَلْحِقَانِي بِالْقَوْمِ لَا تَعِدَانِي بِسَلَا بَعْدَ الْيَوْمِ فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْأَضْرَاسِ نَكَبَ، فَقَالَ:
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ ... وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ
فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ حَسَرْتُ، وَأَنَا مَيِّتٌ فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ وَاجْعَلْهُ مِمَّا كَانَ يَلِي جِلْدِي فَتُوُفِّي فَكَفَّنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَمِيصِهِ وَدَخَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا صَبِيٌّ وَهِي تَقُولُ:
[البحر الكامل]
ابْكِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ... أَبَا الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةْ
إِنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ... أَبَا الْوَلِيدِ كَفَى الْعَشِيرَةْ
قَدْ كَانَ غَيْثًا فِي السِّنِينَ ... وَجَعْفَرًا غَدَقًا وَمِيرَةْ
فَقَالَ: «إِنْ كِدْتُمْ لَتَتَّخِذُونَ الْوَلِيدَ جِنَانًا» فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ "
ترجمہ

اسماعیل بن ایوب بن سلمہ بن عبداللہ بن ولید بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ولید بن ولید مکہ میں قید تھے، جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنی ایک زمین جسے “المنیٰ” کہا جاتا تھا، طائف میں ایک اونٹنی کے بدلے بیچ دی اور شعر کہا: ”ہجرت کرنے والے کی اولاد! علم کی گٹھڑی بیچ دو، پھر اس سے ایک رسی اور اونٹنی خرید لو، پھر اپنے آپ کو مشتاق دل کے ساتھ ان کی طرف پھینک دو۔“ چنانچہ انہوں نے لوگوں کی غفلت کا موقع پایا تو وہ، عیاش بن ابی ربیعہ بن مغیرہ اور سلمہ بن ہشام پیدل نکلے، انہیں پیچھا کیے جانے کا خوف تھا، چنانچہ وہ دوڑتے رہے یہاں تک کہ تھک گئے اور ولید پیچھے رہ گئے، تو انہوں نے شعر کہا: ”اے میرے پاؤں! مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دو، آج کے بعد میرے ساتھ سستی کا وعدہ نہ کرنا۔“ جب وہ حرۃ الاضراس پہنچے تو ٹھوکر کھا گئے، تو کہا: ”تو تو بس ایک انگلی ہی ہے جو خون آلود ہوئی، اور تجھے جو کچھ پیش آیا وہ اللہ کی راہ میں ہے۔“ پھر وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تھک چکا ہوں اور میں مرنے والا ہوں، مجھے اپنی قمیص میں کفن دیجیے اور اسے میری جلد سے لگا دیجیے۔ چنانچہ ان کی وفات ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی قمیص میں کفن دیا۔ پھر آپ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے جن کے سامنے ایک بچہ تھا اور وہ مرثیہ کہہ رہی تھیں: ”ولید بن ولید، ابوالولید بن مغیرہ پر روؤ! بے شک ولید بن ولید ابوالولید اپنے قبیلے کے لیے کافی تھے۔ وہ قحط کے سالوں میں بارش تھے، اور لبریز نہر اور غلہ رسد تھے۔“ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا: ”تم تو قریب تھے کہ ولید کو معبود بنا لیتے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18630
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 152، حدیث 410