المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو مصعب المكي , عن المغيرة باب: ابومصعب مکی کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا ثَنَا عَوْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُصْعَبٍ الْمَكِّيَّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ , وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ , فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَمَرَ اللهُ شَجَرَةً لَيْلَةَ الْغَارِ فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَمَرَ اللهُ الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَمَرَ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَفتَا بِفَمِ الْغَارِ , وَأَقْبَلَ فَتَيَانُ قُرَيْشٍ - مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ - بِعِصِيِّهِمْ وهَرَاوَاتِهِمْ وَسُيُوفِهِمْ , حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا تَعَجَّلَ بَعْضُهُمْ يَنْظُرُ فِي الْغَارِ فَرَأَى حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ , فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ لَمْ تَنْظُرْ فِي الْغَارِ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ , فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَعَرَفَ أَنَّ اللهَ قَدْ دَرَأَ عَنْهُ بِهِمَا , فَدَعَا لَهُنَّ وَسَمَّى عَلَيْهِنِّ , وَفَرَضَ جَزَاءَهُنَّ وَأُقْرِرْنَ فِي الْحَرَمِ "ابومصعب مکی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے انس بن مالک، زید بن ارقم اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا، تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”غار (ثور) کی رات اللہ تعالیٰ نے ایک درخت کو حکم دیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اُگ آیا، اور اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا تو اس نے نبی کریم ﷺ کے سامنے جالا بن دیا، اور اللہ تعالیٰ نے دو جنگلی کبوتروں کو حکم دیا تو وہ غار کے منہ پر آ بیٹھے۔ قریش کے نوجوان - ہر قبیلے سے ایک آدمی - اپنی لاٹھیاں، ڈنڈے اور تلواریں لیے آگے بڑھے، یہاں تک کہ جب وہ نبی کریم ﷺ سے تقریباً چالیس ہاتھ کے فاصلے پر رہ گئے تو ان میں سے ایک نے جلدی کی اور غار میں جھانک کر دیکھا، تو اس نے غار کے منہ پر دو کبوتر دیکھے، چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا کہ تم نے غار میں جھانک کر نہیں دیکھا؟ اس نے کہا: میں نے غار کے منہ پر دو کبوتر دیکھے تو مجھے یقین ہو گیا کہ اس میں کوئی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ ﷺ کو معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (کبوتروں) کے ذریعے آپ ﷺ سے (دشمن کو) دور کر دیا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان پر (اللہ کا نام لے کر برکت کی) دعا کی، اور ان کا معاوضہ (تاوان) مقرر فرمایا، اور انہیں حرم میں (محفوظ) رہنے دیا گیا۔“