المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
فضالة بن عمرو الزهراني , عن المغيرة باب: فضالہ بن عمرو زہرانی کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عَمْرٍو الزَّهْرَانِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ , فَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ: «أَيْنَ تَرَكْتَ النَّاسَ؟» فَقُلْتُ: تَرَكْتُهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا , فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَنَزَلَ ثُمَّ ذَهَبَ فَتَوَارَى عَنِّي فَاحْتَبَسَ بِقَدْرِ مَا يَقْضِي الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: «أَمَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ , فَصَبَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ , وَمَسَحَ رَأْسَهُ , وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ قَدْ ضَاقَتْ يَدَاهَا فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَرَفَعَهَا عَنْ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ , وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَخُفَّيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَلَكَ حَاجَةٌ؟» قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَرَكِبْنَا حَتَّى أَدْرَكْنَا النَّاسَ "سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی منزل میں تھے، میں آپ ﷺ کے پیچھے چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے لوگوں کو کہاں چھوڑا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں فلاں فلاں جگہ چھوڑا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی سواری بٹھائی اور اتر گئے، پھر چلے گئے اور مجھ سے اوجھل ہو گئے، اتنی دیر رکے رہے جتنی دیر میں آدمی قضائے حاجت کرتا ہے، پھر تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا۔ آپ ﷺ نے ایک شامی جبہ پہن رکھا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور اسے اپنے ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا، پھر اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا، اور اپنے سر اور موزوں پر مسح فرمایا۔ پھر فرمایا: ”تمہیں کوئی حاجت ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ فرماتے ہیں: پھر ہم سوار ہوئے یہاں تک کہ لوگوں تک جا پہنچے۔“