حدیث نمبر: 18113
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رَفَعَهُ ابْنُ أَبْجَرَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ مُطَرِّفٌ - قَالَ: " قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ أَخْبِرْنِي عَنْ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: نَعَمْ هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَدْخُلُهَا وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ؟ فَقَالَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنَ الْمُلُوكِ فِي الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّي، فَيَقُولُ: إِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ - وَعَقَدَ سُفْيَانُ أَصَابِعَهُ الْخَمْسَ - فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّي، فَيَقُولُ: إِنَّ لَكَ هَذَا وَمَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّي، قَالَ مُوسَى: يَا رَبِّ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَعْلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: نَعَمْ أُولَئِكَ أَرَدْتَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْهُمْ، غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَا يَخْطُرُ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيَنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: ١٧]
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے جنتیوں میں سب سے کم درجے والے کے بارے میں بتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، وہ ایک آدمی ہے جو (سب) لوگوں کے اپنے اپنے مقامات پر اتر جانے اور اپنے اپنے حصے لے لینے کے بعد آئے گا، تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں کیسے داخل ہوں جبکہ لوگ اپنے مقامات پر اتر چکے اور اپنے حصے لے چکے ہیں؟ تو اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ جیسا (ملک) دیا جائے؟ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے میرے رب! تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس جیسا، اور اس جیسا، اور اس جیسا (بھی) ملے گا۔ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے میرے رب! تو اس سے کہا جائے گا: یہ (سب کچھ) اور اس کے ساتھ وہ بھی جو تمہارا دل چاہے اور تمہاری آنکھ کو بھلا لگے، تمہارے لیے ہے۔ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے میرے رب! موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے جنتیوں میں سب سے بلند درجے والے کے بارے میں بھی بتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، تم نے انہی کے بارے میں پوچھا ہے، اور میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں: میں نے اپنے ہاتھ سے ان کی عزت افزائی کی چیز بوئی اور اس پر مہر لگا دی، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا۔“ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں یوں ہے: ”پس کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ [سورۃ السجدۃ: 17]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18113
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 412، حدیث 989