المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عون محمد بن عبيد الله الثقفي، عن وراد باب: ابوعون محمد بن عبیداللہ ثقفی کی وراد سے روایات
حدیث نمبر: 18064
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ ضَرَبَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا، وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ كَاهِنٍ، فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ»ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے اپنی سوکن کو ایک ستون (لکڑی) سے مارا اور اسے قتل کر دیا، اور اس کے پیٹ کے بچے کو بھی مار ڈالا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس (مقتولہ) کی دیت (قاتلہ) عورت کے عصبہ (ددھیالی رشتہ داروں) پر رکھی، اور جنین کے بارے میں غرہ - غلام یا لونڈی - کا فیصلہ فرمایا، تو لوگوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! ہم اس کی دیت کیسے ادا کریں جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ چیخا نہ چلایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو کاہنوں جیسی بات کہتا ہے، اس میں غلام یا لونڈی کی صورت میں غرہ (دیت) ہے۔“