المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباد بن زياد، عن عروة بن المغيرة باب: عباد بن زیاد کی عروہ بن مغیرہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكٍ، فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، «فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ» ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي لَهُمْ، فَأَدْرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ: «أَحْسَنْتُمْ» أَوْ قَالَ: «أَصَبْتُمْ» ، يَغْبِطُهُمْ أَنَّ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ وَزَادَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَبَادَرْتُ لَأُخْبِرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ» . فَذَكَرَ نَحْوَهُسیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں فجر کی نماز سے پہلے پانی کا برتن لیے آپ ﷺ کے ساتھ گیا، جب رسول اللہ ﷺ میری طرف واپس آئے تو میں نے برتن سے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی بہانا شروع کیا، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ دھویا، پھر بازو جبے سے نکالنے لگے تو آستینیں تنگ ہو گئیں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کہنیوں تک جبے کے اندر ہی ڈال دیے، پھر موزوں سمیت وضو مکمل کیا۔ پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور میں بھی ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر کے انہیں امام بنا لیا تھا، تو نبی کریم ﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک رکعت ملی، آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ آخری رکعت پڑھی۔ جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اللہ ﷺ اپنی باقی نماز پوری کرنے کھڑے ہو گئے، اس سے مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی تو وہ کثرت سے تسبیح پڑھنے لگے، جب نبی کریم ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا: ”تم نے درست کیا“ - انہیں اس بات پر خوش کرتے ہوئے کہ انہوں نے نماز اپنے وقت پر پڑھی۔
ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ سے عباد بن زیاد کی حدیث جیسی حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو خبر دینے کے لیے جلدی کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو۔“ پھر اسی جیسا واقعہ بیان کیا۔