المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي، عن عروة باب: شعبی کی عروہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَبِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ فَقَالَ: «أَوَ مَعَكَ مَاءٌ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَّادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنْ مَاءِ الْإِدَوَاةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ ضِيقِهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّهُ، فَقَالَ: «دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ» فَمَسَحَ عَلَيْهِمَاسیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک رات سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ اپنی سواری سے اترے اور چل کر رات کے اندھیرے میں مجھ سے اوجھل ہو گئے، پھر واپس آئے تو میں نے برتن سے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا، آپ ﷺ نے اون کا ایک جبہ پہن رکھا تھا، آپ ﷺ اپنے بازو اس کی تنگی کی وجہ سے باہر نہ نکال سکے تو انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر اپنے بازو دھوئے اور سر کا مسح کیا، پھر میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں رہنے دو، میں نے انہیں پاک حالت میں پہنا تھا۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا۔