❮
❯
حدیث نمبر: 17986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، وَدَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ قَالُوا: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنِي أَبُو إِيَاسٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قُرَّةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ أَيَّامُ الْقَادِسِيَّةِ بَعَثَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى صَاحِبِ فَارِسٍ فَقَالَ: ابْعَثُوا مَعِي عَشَرَةً، قَالَ: فَشَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ وَأَخَذَ مَعَهُ جَحْفَةً ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَوْهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: أَلْقُوا إِلَيَّ بُرْنُسًا فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ الْعِلْجُ: إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي حَمَلَكُمْ عَلَى الْجِيئَةِ إِلَيْنَا، أَنْتُمْ قَوْمٌ لَا تَجِدُونَ فِي بِلَادِكُمْ مِنَ الطَّعَامِ مَا تَشْبَعُونَ مِنْهُ، فَخُذُوا نُعْطِكُمْ مِنَ الطَّعَامِ حَاجَتَكُمْ، فَإِنَّا قَوْمٌ مَجُوسٌ وَإِنَّا نَكْرَهُ قَتْلَكُمْ، إِنَّكُمْ تَتَحَسُّونَ عَلَيْنَا أَرْضَنَا، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: وَاللهِ مَا ذَاكَ جَاءَ بِنَا، وَلَكِنَّا كُنَّا قَوْمًا نَعْبُدُ الْحِجَارَةَ وَالْأَوْثَانَ، فَإِذَا رَأَيْنَا حَجَرًا أَحْسَنَ مِنْ حَجَرٍ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا غَيْرَهُ، وَلَا نَعْرِفُ رَبًّا حَتَّى «بَعَثَ اللهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِنَا» فَدَعَانَا إِلَى الْإِسْلَامِ فَاتَّبَعْنَاهُ، وَأَمَرَنَا بِقِتَالِ عَدُوِّنَا مِمَّنْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ "، وَلَمْ نَجِئْ لِلطَّعَامِ وَلَكِنْ جِئْنَا نَقْتُلُ مُقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْبِي ذَرَارِيَّكُمْ، فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الطَّعَامِ، فَإِنَّا كُنَّا لَعَمْرِي لَا نَجْدُ مِنَ الطَّعَامِ مَا نَشْبَعُ بِهِ، وَرُبَّمَا لَمْ نَجِدْ رِيًّا مِنَ الْمَاءِ أَحْيَانًا، فَجِئْنَا إِلَى أَرْضِكُمْ هَذِهِ فَوَجَدْنَا فِيهَا طَعَامًا كَثِيرًا، فَلَا وَاللهِ لَا نَبْرَحُهَا حَتَّى تَكُونَ لَنَا أَوْ لَكُمْ، قَالَ الْعِلْجُ بِالْفَارِسِيَّةِ: صَدَقَ، وَأَنْتَ تُفْقَأُ عَيْنُكَ غَدًا بِالْقَادِسِيَّةِ، فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ مِنَ الْغَدِ، أَصَابَتْهُ نُشَّابَةٌ
ترجمہ

سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب قادسیہ کے دن تھے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فارس کے سردار کی طرف (پیغام) بھیجا اور کہا: میرے ساتھ دس آدمی بھیجو۔ پھر انہوں نے اپنے کپڑے کس کر باندھے اور ایک ڈھال ساتھ لی، پھر چل پڑے یہاں تک کہ وہ اس کے پاس پہنچے، تو انہوں نے لوگوں سے کہا: میرے لیے ایک برنس (چغہ) ڈال دو، پھر اس پر بیٹھ گئے۔ اس عجمی (سردار) نے کہا: اے عرب کے لوگو! میں جانتا ہوں کہ تمہیں ہمارے پاس آنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ہے، تم ایسی قوم ہو جو اپنے ملک میں اتنا کھانا نہیں پاتے کہ سیر ہو سکو، تو (یہ) لے لو، ہم تمہیں تمہاری ضرورت کے مطابق کھانا دے دیتے ہیں، کیونکہ ہم مجوسی قوم ہیں اور ہم تمہیں قتل کرنا ناپسند کرتے ہیں، (تمہاری لاشیں) ہماری زمین کو ہم پر ناپاک کر دیں گی۔ تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (کھانا) ہمیں یہاں نہیں لایا، بلکہ ہم ایک ایسی قوم تھے جو پتھروں اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، جب ہمیں کوئی پتھر پہلے سے اچھا نظر آتا تو ہم پہلا پھینک دیتے اور دوسرا اٹھا لیتے، اور ہم کسی رب کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا، جس نے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے اس کی پیروی کی، اور اس نے ہمیں اپنے دشمن سے لڑنے کا حکم دیا، ان لوگوں سے جنہوں نے اسلام چھوڑ دیا۔ ہم کھانے کے لیے نہیں آئے، بلکہ ہم تمہارے لڑنے والوں کو قتل کرنے اور تمہاری اولاد کو قید کرنے کے لیے آئے ہیں۔ رہی بات کھانے کی جو تم نے ذکر کی، تو ہم واقعی اتنا کھانا نہیں پاتے تھے کہ سیر ہو سکیں، اور کبھی کبھی پانی بھی اتنا نہیں ملتا تھا کہ پیاس بجھا سکیں، پھر ہم تمہاری اس زمین میں آئے تو اس میں بہت سا کھانا پایا، تو اللہ کی قسم! ہم اسے نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ یہ ہماری ہو جائے یا تمہاری۔ اس پر اس عجمی شخص نے فارسی زبان میں کہا: یہ سچ کہتا ہے، اور کل تمہاری آنکھ قادسیہ میں پھوڑ دی جائے گی۔ چنانچہ اگلے دن ان کی آنکھ کو تیر لگا اور وہ پھوٹ گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17986
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 369، حدیث 861