المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مروان بن قيس الأسدي باب: سیدنا مروان بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عِمْرَانُ بْنُ يَحْيَى الْأَسَدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي مَرْوَانَ بْنَ قَيْسٍ - وَقَدْ أَخَذَ الرَّعِيَّةَ عَنْ أَهْلِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ، وَقَدْ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى مَكَّةَ، وَأَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً، وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنَّ نَمْشِي عَنْهُ وَأَنْ نَقْضِيَ عَنْهُ بَدَنَةً مِنْ مَالِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، اقْضِ عَنْهُ وَانْحَرْ وَامْشِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ لِرَجُلٍ فَقَضَيْتَ عَنْهُ مِنْ مَالِكَ، أَلَيْسَ يَرْجِعُ الرَّجُلُ رَاضِيًا؟ وَاللهُ أَحَقُّ أَنَّ يَرْضَى»سیدنا مروان بن قیس رضی اللہ عنہ - جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے لوگوں سے (صدقے کے) مویشی وصول کیے تھے - کہتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت ہو گئے ہیں، اور انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا کہ مکہ تک پیدل جائیں گے اور ایک اونٹنی قربان کریں گے، مگر انہوں نے کوئی مال نہیں چھوڑا، تو کیا یہ (نذر) پوری ہو جائے گی اگر ہم ان کی طرف سے پیدل چلیں اور اپنے مال سے ان کی طرف سے ایک اونٹنی قربان کر دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس کی طرف سے ادا کرو، قربانی کرو، اور پیدل چلو۔ بتاؤ اگر تمہارے باپ پر کسی آدمی کا قرض ہوتا اور تم اسے اپنے مال سے ادا کر دیتے، تو کیا وہ آدمی راضی ہو کر واپس نہ جاتا؟ اور اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ راضی ہو۔“