المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
منذر بن عمرو الأنصاري ثم الساعدي " استشهد يوم بئر معونة وكان أمير السرية " باب: سیدنا منذر بن عمرو انصاری ساعدی رضی اللہ عنہ، بئرمعونہ کے دن شہید ہوئے، اس لشکر کے امیر تھے
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أُحُدٍ بَقِيَّةَ شَوَّالٍ، وَذَا الْقَعْدَةِ، وَذَا الْحِجَّةِ وَوَلِيَ تِلْكَ الْحَجَّةَ الْمُشْرِكُونَ، وَالْمُحَرَّمَ، ثُمَّ بَعَثَ أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ فِي سَفَرٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ أُحُدٍ»
فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِمْ كَمَا حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: قَدِمَ أَبُو بَرَاءٍ عَامِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ - عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ وَدَعَاهُ إِلَيْهِ فَلَمْ يُسْلِمْ وَلَمْ يبَعُدْ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَوْ بَعَثْتَ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ فَدَعَوْهُمْ إِلَى الْإِيمَانِ، رَجَوْتُ أَنْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ، فَابْعَثْهُمْ فَلْيَدْعُوا النَّاسَ إِلَى أَمْرِكَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُنْذِرَ بْنَ عَمْرٍو أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ الْمُعْنِقَ لِيَمُوتَ فِي أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ خِيَارِهِمْ مِنْهُمُ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ، وَحَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، وَعُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ السُّلَمِيُّ، وَنَافِعُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَرِجَالٌ مُسَمَّوْنَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَارُوا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ - وَهِيَ بَيْنَ أَرْضِ بَنِي عَامِرٍ، وَحَّرَةِ بَنِي سُلَيْمٍ، كِلَا الْبَلَدَيْنِ مِنْهَا قَرِيبٌ، وَهِيَ مِنْ سُلَيْمٍ أَقْرَبُ - فَلَمَّا نَزَلُوهَا بَعَثُوا حَرَامَ بْنَ مِلْحَانَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ لَمْ يَنْظُرْ فِي كِتَابِهِ إِلَى أَنْ عَدَا عَلَى الرَّجُلِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ اسْتَصْرخَ عَلَيْهِمْ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُجِيبُوهُ إِلَى مَا دَعَاهُمْ، وَقَالُوا: لَنْ نُخْفِرَ أَبَا بَرَاءٍ، وَقَدْ عَقَدَ لَهُمْ عَقْدًا وَجِوَارًا، فَاسْتَصْرَخَ عَلَيْهِمْ قَبَائِلَ بَنِي سُلَيْمٍ: عُصَيَّةَ، وَرِعْلًا وذَكْوَانًا، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ فَخَرَجُوا حَتَّى غَشُوا الْقَوْمَ، فَأَحَاطُوا بِهِمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ أَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ ثُمَّ قَاتَلُوهُمْ حَتَّى قُتِلُوا عَنْ آخِرِهِمْ، إِلَّا كَعْبَ بْنَ زَيْدٍ أَخَا بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ، فَإِنَّهُمْ تَرَكُوهُ فِيهِ رَمَقٌ، فَارْتُثَّ مِنْ بَيْنِ الْقَتْلَى فَعَاشَ حَتَّى قُتِلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَكَانَ فِي سَرْحِ الْقَوْمِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ - فَلَمْ يُنَبِّئْهُمَا بِمُصَابِ إِخْوَتِهِمَا إِلَّا الطَّيْرُ تَحُومُ عَلَى الْعَسْكَرِ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنَّ لِهَذِهِ الطَّيْرِ لَشَأْنًا، فَأَقْبَلَا لِيَنْظُرَا فَإِذَا الْقَوْمُ فِي دِمَائِهِمْ، فَإِذَا الْخَيْلُ الَّتِي أَصَابَتْهُمْ وَاقِفَةٌ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ: مَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَى أَنْ نَلْحَقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: لَكِنِّي مَا كُنْتُ أَرْغَبُ بِنَفْسِي عَنْ مَوْطِنٍ قُتِلَ فِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَمَا كُنْتُ لَتُخْبِرَنِي عَنْهُ الرِّجَالُ، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَخَذَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ أَسِيرًا، فَلَمَّا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ مِنْ مُضَرَ أَطْلَقَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَجَزَّ نَاصِيَتَهُ، وَأَعْتَقَهُ عَنْ رَقَبَةٍ زَعَمَ أَنَّهَا كَانَتْ عَلَى أُمِّهِ، فَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْقَرْقَرَةِ مِنْ صَدْرِ قَنَاةٍ أَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ حَتَّى نَزَلَا مَعَهُ فِي ظِلٍّ هُوَ فِيهِ، وَكَانَ لِلْعَامِرِيِّيِّنَ عَقْدٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِوَارٌ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ وَقَدْ سَأَلَهُمَا حِينَ نَزَلًا: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَأَمْهَلَهُمَا حَتَّى إِذَا نَامَا عَدَا عَلَيْهِمَا فَقَتَلَهُمَا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ أَصَابَ بِهِمَا ثَأْرَهُ مِنْ بَنِي عَامِرٍ لِمَا أَصَابُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ قَتَلْتَ قَتِيلَيْنِ لَأَدِيَنَّهُمَا» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ، قَدْ كُنْتُ لَهَا كَارِهًا مُتَخَوِّفًا» فَبَلَغَ ذلك أَبَا بَرَاءٍ فَشَقَّ عَلَيْهِ إِخْفَارُ عَامِرٍ إِيَّاهُ، وَمَا أُصِيبَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبَبِهِ وَجِوَارِهِ، وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُحَرِّضُ بَنِي أَبِي بَرَاءٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ: بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ أَلَا أَبْلِغْ رَبِيعَةَ ذَا الْمَسَاعِي فَمَا أَحْدَثْتَ فِي الْحَدَثَانِ بَعْدِي أَبُوكَ أَبُو الْحُرُوبِ أَبُو بَرَاءٍ وَخَالُكَ مَاجِدٌ حَكَمُ بْنُ سَعْدِ فَحَمَلَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ فَطَعَنَهُ بِالرُّمْحِ فَوَقَعَ فِي فَخِذِهِ وَأَشْوَاهُ وَوَقَعَ عَنْ فَرَسِهِ، فَقَالَ: «هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ، فَإِنْ أَمُتْ فَدَمِي لِعَمِّي، فَلَا يُتْبَعَنَّ بِهِ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَرَى رَأْيِي فِيمَا أَتَى إِلَيَّ»محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ احد کے بعد باقی ماندہ شوال، اور ذوالقعدہ، اور ذوالحجہ - جس کا حج اس سال مشرکین نے کیا تھا - اور محرم تک مقیم رہے، پھر احد کے چار مہینے بعد اصحابِ بئرمعونہ کو ایک سفر پر روانہ کیا۔
ان کا واقعہ اس طرح ہے جیسا کہ میرے والد اسحاق بن یسار نے مجھے مغیرہ بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور دیگر اہلِ علم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوبراء عامر بن مالک بن جعفر - ملاعب الاسنہ - رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، مگر وہ نہ مسلمان ہوئے اور نہ اسلام سے دور رہے، اور کہا: اے محمد! اگر آپ اپنے کچھ صحابہ کو اہلِ نجد کی طرف بھیج دیں تاکہ وہ انہیں ایمان کی دعوت دیں، تو مجھے امید ہے کہ وہ آپ کی بات مان لیں گے، انہیں بھیج دیجیے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کے دین کی طرف بلائیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے منذر بن عمرو - بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج کے بھائی، جنہیں ”المعنق لیموت“ کہا جاتا تھا - کو چالیس بہترین مسلمانوں کے ساتھ بھیجا، جن میں حارث بن صمہ، حرام بن ملحان - بنو عدی بن نجار کے بھائی، عروہ بن اسماء بن صلت سلمی، نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی، عامر بن فہیرہ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام - اور بہترین مسلمانوں میں سے دیگر نامزد افراد شامل تھے۔ وہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ بئرمعونہ میں اترے - جو بنو عامر کی زمین اور بنو سلیم کے پتھریلے علاقے کے درمیان واقع تھی، دونوں جگہیں اس سے قریب تھیں، مگر سلیم سے زیادہ قریب تھی - جب وہاں اترے تو حرام بن ملحان کو رسول اللہ ﷺ کا خط دے کر عامر بن طفیل کی طرف بھیجا، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو اس نے خط دیکھے بغیر ہی اس آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، پھر بنو عامر کو ان کے خلاف مدد کے لیے پکارا، مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہا: ہم ابوبراء کے عہد کو نہیں توڑیں گے، انہوں نے ان سے عہد و پناہ کیا ہے۔ تو اس نے بنو سلیم کے قبائل: عصیہ، رِعل اور ذکوان کو پکارا، تو انہوں نے اس کی بات مان لی اور نکل پڑے یہاں تک کہ ان لوگوں پر چڑھائی کر دی، اور انہیں ان کے پڑاؤ میں گھیر لیا، جب انہوں نے انہیں دیکھا تو اپنی تلواریں تھام لیں اور ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سب کے سب شہید ہو گئے، سوائے کعب بن زید کے - بنو دینار بن نجار کے بھائی - کہ انہیں اس حالت میں چھوڑا گیا کہ ان میں کچھ جان باقی تھی، وہ مقتولین میں سے نکالے گئے اور زندہ رہے یہاں تک کہ غزوہ خندق کے دن شہید ہوئے۔ اس وقت عمرو بن امیہ ضمری اور انصار میں سے ایک آدمی - بنو عمرو بن عوف میں سے - قوم کے جانور چرا رہے تھے، تو انہیں اپنے بھائیوں کی مصیبت کی خبر کسی چیز نے نہ دی سوائے پرندوں کے جو لشکر پر منڈلا رہے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ان پرندوں کا کوئی معاملہ ضرور ہے، چنانچہ وہ دیکھنے آگے بڑھے تو دیکھا کہ لوگ اپنے خون میں لت پت ہیں، اور وہ گھوڑے جنہوں نے انہیں مارا تھا وہیں کھڑے تھے۔ انصاری نے عمرو بن امیہ سے کہا: تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر انہیں یہ خبر پہنچائیں۔ انصاری نے کہا: لیکن میں اپنے آپ کو اس جگہ سے دور نہیں لے جانا چاہتا جہاں منذر بن عمرو شہید ہوئے، اور نہ ہی مجھے لوگوں کی زبانی خبر پہنچنی چاہیے، پھر وہ لوگوں سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، اور عمرو بن امیہ قیدی بنا لیے گئے، جب انہوں نے بتایا کہ وہ مُضر سے ہیں تو عامر بن طفیل نے انہیں آزاد کر دیا اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ دیے، اور انہیں اپنی والدہ پر واجب ایک غلام کے بدلے آزاد کر دیا۔ عمرو بن امیہ نکلے یہاں تک کہ جب قناۃ کے سرے پر قرقرہ کے مقام پر پہنچے تو بنو عامر کے دو آدمی آئے اور اسی سائے میں ان کے ساتھ بیٹھ گئے جس میں وہ تھے، اور بنو عامر کا رسول اللہ ﷺ سے عہد و پناہ تھا، جس کا علم عمرو بن امیہ کو نہ تھا۔ جب وہ دونوں بیٹھے تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: بنو عامر سے، تو انہیں مہلت دی یہاں تک کہ وہ سو گئے، پھر ان پر حملہ کر کے دونوں کو قتل کر دیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ انہوں نے بنو عامر سے اپنے ساتھیوں کا بدلہ لے لیا ہے۔ جب عمرو بن امیہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو انہیں یہ خبر سنائی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چونکہ تم نے دو آدمی قتل کیے ہیں تو میں ضرور ان کی دیت ادا کروں گا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ابوبراء کا کیا دھرا ہے، مجھے پہلے ہی اس کا اندیشہ اور خوف تھا۔“ یہ بات ابوبراء کو پہنچی تو انہیں عامر کے اس دھوکے پر، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ جو ان کے سبب اور پناہ میں پیش آیا تھا، سخت رنج ہوا۔ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابوبراء کے خاندان کو عامر بن طفیل کے خلاف ابھارتے ہوئے کہا: اے بنو ام البنین! کیا تمہیں یہ خبر نہ ہلا سکی، حالانکہ تم نجد کے سرداروں میں سے ہو؟ عامر نے ابوبراء کا مذاق اڑایا تاکہ اسے دھوکا دے، اور جان بوجھ کر کیا گیا کام غلطی جیسا نہیں ہوتا۔ سن لو! ربیعہ صاحبِ مساعی کو پیغام پہنچاؤ: میرے بعد تم نے (اس معاملے میں) کیا کِیا؟ تمہارا باپ جنگوں کا بہادر ابوبراء ہے، اور تمہارا ماموں بزرگ حکم بن سعد ہے۔ چنانچہ ربیعہ بن عامر نے عامر بن طفیل پر حملہ کیا اور اسے نیزہ مارا، جو اس کی ران میں لگا اور اسے زخمی کر دیا، اور وہ اپنے گھوڑے سے گر پڑا، تو اس نے کہا: یہ ابوبراء کا کیا دھرا ہے، اگر میں مر جاؤں تو میرا خون میرے چچا کے ذمے ہے، اس کا بدلہ نہ لیا جائے، اور اگر زندہ رہا تو جو کچھ میرے ساتھ ہوا اس میں اپنی رائے پر عمل کروں گا۔