المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مسعود بن الأسود العدوي " وهو مسعود بن الأسود بن حارثة بن نضلة بن عوف بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب، وأمه العجماء بنت عامر " باب: سیدنا مسعود بن اسود عدوی رضی اللہ عنہ (آپ مسعود بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں، آپ کی والدہ عجماء بنت عامر تھیں)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ الْقَطِيفَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْظَمْنَا ذَلِكَ، وَكَانَتْ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجِئْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُطَهَّرُ خَيْرٌ لَهَا» ، فَلَمَّا سَمِعْنَاها لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقْنَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ هَذِهِ الْمَرْأَةِ، وَنَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ،» مَا إِكْثَارُكُمْ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللهِ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ قَرِفَتْ بِمَا نَزَلَتْ بِهِ هَذِهِ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " فَيَئِسَ النَّاسُ فَقَطَعَ يَدَهَاسیدنا مسعود بن اسود عدوی رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، اور وہ عورت قریش سے تھی، تو ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے بات کی، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پاک ہونا اس کے لیے بہتر ہے۔“ جب ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لہجے میں نرمی محسوس کی تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے بات کی، ہم نے عرض کیا: اس عورت کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ہماری سفارش کیجیے، ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے دیں گے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ کوشش دیکھی تو ہمارے سامنے خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو!“ تمہیں اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں، جو اللہ کی ایک لونڈی پر واقع ہوئی ہے، اتنا اصرار کیوں ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی وہی جرم کرتیں جو اس عورت نے کیا ہے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ چنانچہ لوگ مایوس ہو گئے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔