المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مطيع بن الأسود العدوي القرشي " وهو مطيع بن الأسود بن حارثة بن نضلة بن جريان بن عوف بن عبيد عويج بن عدي بن كعب، وأمه العجماء بنت يمان بن الفضل بن عفيف بن كلب بن حيشية الخزاعي " باب: سیدنا مطیع بن اسود عدوی قرشی رضی اللہ عنہ (آپ مطیع بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن جریان بن عوف بن عبید عویج بن عدی بن کعب ہیں، آپ کی والدہ عجماء بنت یمان بن فضل بن عفیف بن کلب بن حیشیہ خزاعیہ تھیں)
حدیث نمبر: 17826
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: «لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ، وَلَمْ يُدْرِكْ أَحَدٌ الْإِسْلَامَ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصِ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًاترجمہ
سیدنا مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن یہ فرماتے سنا: ”آج کے دن کے بعد قیامت تک کسی قریشی کو قید کر کے بلا مقابلہ قتل نہیں کیا جائے گا۔“ اور نافرمان قریش میں سے مطیع کے سوا کسی اور نے اسلام کی توفیق نہیں پائی، ان کا نام پہلے عاص تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام مطیع رکھا۔