حدیث نمبر: 17672
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: وَضَّأْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ لِي: «هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ» ؟ - يَعْنِي ابْنَتَهَ - قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ الثِّقْلَ غَيْرُكَ وَيَكُونُ الْأَجْرُ لَكَ» ، فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ لَهَا: «كَيْفَ تَجِدِينَكَ؟» فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدِ اشْتَدَّ حُزْنِي، وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي، وَطَالَ سُقْمِي، فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا، وَأَحْلَمَهُمْ حِلْمًا» ؟
ترجمہ

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کو وضو کروایا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلنا پسند ہے؟“ - یعنی اپنی بیٹی کی طرف - میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ میرے سہارے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”سنو! گھر کا بوجھ تمہارے علاوہ کوئی اور اٹھائے گا، مگر اجر تمہیں ملے گا۔“ گویا مجھ پر بوجھ کا کچھ اثر ہی نہ رہا، یہاں تک کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے آپ کو کیسا پاتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میرا غم شدید ہو گیا ہے، اور میری تنگ دستی بڑھ گئی ہے، اور میری بیماری طویل ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تمہارا نکاح اپنی امت کے سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے زیادہ علم رکھنے والے، اور سب سے زیادہ بردبار شخص سے کیا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17672
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 229، حدیث 538