المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معاذ بن أنس الجهني باب: سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 17567
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا رِشْدِينُ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَايِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ عَلَى دَوَابَّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، وَهُمْ وُقُوفٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْكَبُوهَا سَالِمَةً، وانْزِلُوا عَنْهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ ومَجَالِسِكُمْ، فَلَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ مِنْهُ»ترجمہ
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو اپنی سواریوں اور اونٹوں پر (بیٹھے ہوئے) ٹھہرے ہوئے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان پر صحیح سالم سوار ہو، اور صحیح سالم اتر جاؤ، اور انہیں اپنی باتوں اور مجلسوں کے لیے کرسیاں نہ بناؤ، کیونکہ کتنی ہی سواری اپنے سوار سے بہتر اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہے۔“