المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معاذ بن أنس الجهني باب: سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 17560
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَايِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ؟ قَالَ: «أَفْضَلُ الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللهِ» ، قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ، وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ»ترجمہ
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سب سے افضل ایمان کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے افضل ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کے لیے محبت کرو، اللہ کے لیے بغض رکھو، اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں استعمال کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: اور کیا، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ کہ تم لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، اور ان کے لیے وہی ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو، اور یہ کہ اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔“