❮
❯
حدیث نمبر: 17558
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَايِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ فَرَأَى رَجُلًا تَخَلَّفَ، قَالَ: حَتَّى أَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَأُوَدِّعَهُ فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ سَابِقَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ؟» قَالَ: نَعَمْ سُبِقَونِي بِغُدْوَتِهِمُ الْبَارِحَةَ وَالْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ سَبَقَوكَ بِأَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ»
ترجمہ

سہل بن معاذ بن انس رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو جہاد کا حکم دیا، تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو پیچھے رہ جاتے دیکھا۔ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ لوں، پھر آپ کو سلام کروں اور آپ سے رخصت ہوں، تاکہ آپ میرے لیے کوئی ایسی دعا کریں جو قیامت کے دن سبقت لے جانے والی ہو۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تو وہ شخص سلام کرتا ہوا آپ ﷺ کے سامنے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے ساتھیوں نے تم سے کتنی سبقت لے لی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، وہ کل اور آج کی صبح جلدی جانے کی وجہ سے مجھ سے آگے نکل گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، انہوں نے فضیلت میں تم سے مشرقین اور مغربین کے درمیان کے فاصلے سے بھی زیادہ سبقت لے لی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17558
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 190، حدیث 423