المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معاذ بن أنس الجهني باب: سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا زَبَّانُ بْنُ فَايِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: أَيُّ الْمُجَاهِدِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: «أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ ذِكْرًا» ، قَالَ: وَأَيُّ الصَّائِمِينَ أَعْظَمُ لِلَّهِ أَجْرًا؟ قَالَ: «أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ ذِكْرًا» ، ثُمَّ ذَكَرَ الصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ وَالْحَجَّ وَالصَّدَقَةَ، كُلُّ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ ذِكْرًا» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما: يَا أَبَا حَفْصٍ ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ اللهَ بِكُلِّ خَيْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ»سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا مجاہد سب سے بڑے اجر والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا ہو۔“ اس نے پوچھا: اور کون سا روزہ دار اللہ کے ہاں سب سے بڑے اجر والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا ہو۔“ پھر اس نے نماز، زکاۃ، حج اور صدقہ کا ذکر کیا، تو ہر بار رسول اللہ ﷺ یہی فرماتے رہے: ”جو ان میں سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا ہو۔“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوحفص! اللہ کو یاد کرنے والے تو ہر بھلائی لے اڑے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بےشک۔“