حدیث نمبر: 17459
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْعُمَرِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللهِ بْنُ رَاشِدٍ ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مُعَاذًا فَقَالَ لَهُ: «يَا مُعَاذُ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لِيَهُودِيٍّ عَلَيَّ أُوقِيَّةٌ مِنْ تِبْرٍ فَخَرَجْتُ إِلَيْكَ فَحَبَسَنِي عَنْكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ؟ فَلَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِنَ الدِّينِ مِثْلُ جَبَلِ صَبِرٍ أَدَّاهُ اللهُ عَنْكَ - وَصَبِرٌ جَبَلٌ بِالْيَمَنِ - فَادْعُ بِهِ يَا مُعَاذُ قُلِ: اللهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكِ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ، وتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُمَا، وتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِيني بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ "
ترجمہ

…سعید بن مسیب کے واسطے سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جمعہ کے دن انہیں غائب پایا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تو معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا: ”اے معاذ! کیا بات ہے، میں نے تمہیں نہیں دیکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک یہودی کا مجھ پر سونے کی ایک اوقیہ (کا قرض) ہے، تو میں آپ کی طرف نکلا تو اس نے مجھے روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے معاذ! کیا میں تمہیں ایک دعا نہ سکھاؤں جسے تم مانگا کرو؟ اگر تم پر جبل صبر جتنا قرض بھی ہو تو اللہ تمہاری طرف سے وہ ادا کر دے گا - اور صبر یمن کا ایک پہاڑ ہے - تو یہ دعا مانگو، اے معاذ! کہو: 'اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے، اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے، اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے، اور جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے، دنیا اور آخرت دونوں کا مہربان اور رحم کرنے والا، ان دونوں میں سے جسے چاہے دے اور جسے چاہے روک لے، مجھ پر ایسی رحمت فرما جس سے تیرے سوا کسی کی رحمت کی مجھے ضرورت نہ رہے۔'“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17459
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 154، حدیث 323