حدیث نمبر: 17457
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ يَبْكِي عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ يَسِيرًا مِنَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَمَنْ عَادَى أَوْلِيَاءَ اللهِ فَقَدْ بَادَأَ اللهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْأَخْفِيَاءَ الْأَتْقِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْقَدُوا، وَإِذَا حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُعْرَفُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ»
ترجمہ

…اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی قبر کے پاس روتے دیکھا، تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا رلا رہا ہے، اے معاذ؟ انہوں نے کہا: مجھے وہ بات رلا رہی ہے جو میں نے اس قبر والے سے سنی تھی، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”تھوڑا سا دکھاوا بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے دوستوں سے دشمنی کی اس نے اللہ سے جنگ کا آغاز کر دیا، بیشک اللہ عزوجل ان چھپے ہوئے، متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے جو غائب ہوں تو انہیں یاد نہیں کیا جاتا، اور حاضر ہوں تو نہ بلایا جاتا ہے اور نہ پہچانا جاتا ہے، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر تاریک اور دھندلی راہ سے نکل آتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17457
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 153، حدیث 321