حدیث نمبر: 17346
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تَخْشُنَ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ، وَلَا تَضْرِبَهُ، وَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ هُوَ رَضِيَ وَقَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنعِمَتْ، قَبِلَ اللهُ عُذْرَهَا، وَأَمْلَحَ وَجْهِهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا فَقَدْ أَبَلَغَتْ عُذْرَهَا»
ترجمہ

…صدقہ بن عبداللہ کے واسطے سے، وہ عثمان بن عطاء خراسانی سے، وہ اپنے والد سے، وہ مالک بن یخامر سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اس کی ناپسندیدگی کے باوجود (کسی کو) اجازت دے، اور نہ اس کی ناپسندیدگی کے باوجود گھر سے نکلے، اور نہ اس معاملے میں کسی اور کی اطاعت کرے، اور نہ اس کے سینے پر سختی کرے، اور نہ اس کا بستر چھوڑے، اور نہ اسے مارے، خواہ وہ اس پر زیادہ ظالم ہو، یہاں تک کہ وہ اسے راضی کر لے، پس اگر وہ راضی ہو جائے اور اس سے (معذرت) قبول کر لے تو بہتر ہے، اللہ نے اس کی معذرت قبول کر لی، اور اس کا چہرہ حسین کر دیا، اور اس پر کوئی گناہ نہیں، اور اگر وہ اس سے راضی ہونے سے انکار کرے تو وہ اپنی معذرت پہنچا چکی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17346
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 107، حدیث 210