المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبادة بن نسي، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ باب: عبادہ بن نسی کی، عبدالرحمٰن بن غنم کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالُوا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَطُوفِ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُسَرِّحَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ اسْتَشَارَ نَاسًا مَنْ أَصْحَابِهِ - فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ - فَاسْتَشَارَهُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَوْلَا أَنَّكَ اسْتَشَرْتَنَا مَا تَكَلَّمْنَا، فَقَالَ: «إِنِّي فِيمَا لَمْ يُوحَ إِلَيَّ كَأَحَدِكُمْ» ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ، فَتَكَلَّمَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْيِهِ، فَقَالَ: «مَا تَرَى يَا مُعَاذُ؟» قَالَ: أَرَى مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهِ أَنْ يُخْطِئَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ»سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے اپنے کچھ صحابہ سے مشورہ کیا - جن میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، اور سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم شامل تھے - آپ ﷺ نے ان سب سے مشورہ کیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ہم سے مشورہ نہ کرتے تو ہم بات نہ کرتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ان معاملات میں جن میں مجھ پر وحی نہیں کی جاتی، تم میں سے ایک کی طرح ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں نے بات کی، ہر شخص نے اپنی رائے دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہاری کیا رائے ہے؟“ انہوں نے کہا: میری رائے وہی ہے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل اپنے آسمان کے اوپر اسے ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ خطا کریں۔“