المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن أبي رافع، عن المسور بن مخرمة باب: عبیداللہ بن ابی رافع کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ حَسَنَ بْنَ حَسَنٍ، بَعَثَ إِلَى الْمِسْوَرِ يَخْطُبُ ابْنَةً لَهُ، فَقَالَ: قُلْ لَّهُ يُوَافِينِي فِي وَقْتٍ قَدْ ذَكَرَهُ، فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ اللهَ الْمِسْوَرُ، وَقَالَ: مَا مِنْ سَبَبٍ، وَلَا نَسَبٍ وَلَا صِهْرٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَسَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَاطِمَةُ شُجْنَةٌ مِنِّي يَبْسُطُنِي مَا يَبْسُطُهَا، وَيَقْبِضُنِي مَا يَقْبِضُهَا، وَإِنَّهُ يُقْطَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْسَابُ إِلَّا نَسَبِي وَسَبَبِي» ، وَتَحْتَكَ ابْنَتُهَا، وَلَوْ زَوَّجْتُكَ قَبَضَهَا ذَلِكَ، فَذَهَبَ عَاذِرًا لَهُسیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسن بن حسن رحمہ اللہ نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ ان کی ایک بیٹی کا رشتہ مانگتے ہیں، تو انہوں نے کہا: ان سے کہو کہ مجھ سے فلاں وقت ملیں، جو انہوں نے بتا دیا۔ چنانچہ وہ ان سے ملے تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد کی اور کہا: مجھے تمہارے نسب اور رشتہ داری سے بڑھ کر کوئی سبب، نسب یا رشتہ محبوب نہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے جڑی ہوئی شاخ ہے، جو چیز اسے خوش کرتی ہے وہ مجھے خوش کرتی ہے، اور جو چیز اسے غمگین کرتی ہے وہ مجھے غمگین کرتی ہے، اور قیامت کے دن تمام نسب اور رشتے منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے نسب اور سبب کے“ - اور تمہارے نکاح میں ان (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کی بیٹی ہے، اگر میں (اپنی بیٹی کی) شادی تم سے کر دوں تو یہ بات اسے غمگین کر دے گی۔ چنانچہ حسن بن حسن انہیں معذور سمجھتے ہوئے چلے گئے۔