المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مسور بن مخرمة بن نوفل بن أهيب الزهري " أمه أخت عبد الرحمن بن عوف، يقال اسمها: رملة، وكان عند المسور جويرية بنت عبد الرحمن بن عوف، وهي أم ابنه عبد الرحمن بن المسور " باب: سیدنا مسور بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب زہری رضی اللہ عنہ (آپ کی والدہ عبدالرحمٰن بن عوف کی بہن تھیں، کہا جاتا ہے ان کا نام رملہ تھا؛ مسور کے نکاح میں عبدالرحمٰن بن عوف کی بیٹی جویریہ تھیں، جو ان کے بیٹے عبدالرحمٰن بن مسور کی والدہ ہیں)
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَوْمَ جَاءَ نَعْيُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِالْحَجُونِ، أَصَابَهُ حَجَرُ الْمَنْجَنِيقِ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي الْحِجْرِ، فَأَقَامَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ، فَتُوُفِّيَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وُلِدَ بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِسَنَتَيْنِ وَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَمَانٍ، وَشَهِدَ عَامَ الْفَتْحِ، وَهُوَ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ» يَعْنِي الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَسیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اس دن فوت ہوئے جس دن یزید بن معاویہ کی موت کی خبر سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس چونسٹھ ہجری میں پہنچی، اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے حجون میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ انہیں منجنیق کا پتھر لگا تھا جبکہ وہ حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ پانچ دن زندہ رہے، پھر ربیع الاول چونسٹھ ہجری میں فوت ہو گئے۔ وہ ہجرت کے دو سال بعد پیدا ہوئے اور آٹھ ہجری کے آخر ذوالحجہ میں انہیں مدینہ لایا گیا، اور فتح مکہ کے سال وہ حاضر تھے جبکہ ان کی عمر چھ سال تھی، اور نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی - یعنی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی۔