❮
❯
حدیث نمبر: 17098
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْوَزِيرِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالُوا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّهْرِيِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ قَوْلَ سُوَيْدِ بْنِ عَامِرٍ الْمُصْطَلِقِيِّ:
[البحر البسيط]
لَا تَأْمَنَنَّ وَإِنْ أَمْسَيْتَ فِي حَرَمٍ ... إِنَّ الْمَنَايَا بِجَنْبَيْ كُلِّ إِنْسَانِ
وَاسْلُكْ طَرِيقَكَ تَمْشِ غَيْرَ مُخْتَشِعٍ ... حَتَّى تُلَاقِي مَا يُمَنِّي لَكَ الْمَانِي
وَكُلُّ ذِي صَاحِبٍ يَوْمًا مُفَارِقُهُ ... وَكُلُّ زَادٍ وَإِنْ أَبْقَيْتَهُ فَانِي
وَالْخَيْرُ وَالشَّرُّ مَقْرُونَانِ فِي قَرْنٍ ... بِكُلِّ ذَاكَ يَأْتِيكَ الْجَدِيدَانِ
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَدْرَكَنِي هَذَا لَأَسْلَمَ» ، فَبَكَى أَبِي فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ مَا يُبْكِيكَ مِنْ مُشْرِكٍ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟، فَقَالَ: إِنِّي مَا رَأَيْتُ مِنْ مُشْرِكٍ خَيْرًا مِنْ سُوَيْدٍ
ترجمہ

سیدنا مسلم خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، تو میں نے آپ ﷺ کو سوید بن عامر مصطلقی کا یہ شعر سنایا: کبھی بےخوف نہ ہو، خواہ تو حرم میں ہی رات کیوں نہ گزارے، بے شک موت ہر انسان کے پہلو میں لگی رہتی ہے۔
اپنا راستہ چلتا رہ، بےخوف ہو کر، یہاں تک کہ جو کچھ تیرے مقدر میں لکھا ہے اس سے جا ملے۔
ہر ساتھی والا ایک دن اپنے ساتھی سے جدا ہونے والا ہے، اور ہر توشہ، خواہ تم اسے بچا کر رکھو، فنا ہونے والا ہے۔
اور خیر و شر ایک ہی رسی میں بندھے ہیں، یہ سب کچھ تمہارے پاس رات اور دن (لے کر) آتے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ شاعر میرا زمانہ پاتا تو ضرور اسلام لے آتا۔“ تو میرے والد رو پڑے، میں نے عرض کیا: اے میرے والد! آپ کیوں روتے ہیں، حالانکہ وہ ایک مشرک تھا جو جاہلیت میں مر گیا؟ انہوں نے کہا: میں نے سوید سے بہتر کوئی مشرک نہیں دیکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17098
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 432، حدیث 1049