المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو قبيل حي بن هانئ، عن معاوية باب: ابوقبیل، حیی بن ہانی، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَبِيلٍ، يَأْثُرُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ عِنْدَ خُطْبَتِهِ: إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا، وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا، فَمَنْ شَاءَ أَعْطَيْنَاهُ وَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَاهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَ الْجُمُعَةُ الثَّالِثَةُ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِمَّنْ حَضَرَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: كَلَّا، إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا، فَمَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حَاكَمْنَاهُ إِلَى اللهِ بِأَسْيَافِنَا، فَنَزَلَ مُعَاوِيَةُ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَأَدْخَلَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ: هَلَكَ الرَّجُلُ، ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ فَوَجَدُوا الرَّجُلَ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلنَّاسِ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ أَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَكُونُ أَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَقُولُونُ وَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِمْ، يَتَقَاحَمُونَ فِي النَّارِ كَمَا تَتَقَاحَمُ الْقِرَدَةُ» ، وَإِنِّي تَكَلَّمْتُ أَوَّلَ جُمُعَةٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلِيَّ أَحَدٌ، فَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلِيَّ أَحَدٌ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: إِنِّي مِنَ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ فَقَامَ هَذَا الرَّجُلُ فَرَدَّ عَلِيَّ فَأَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللهُپھر لوگ اندر داخل ہوئے تو انہوں نے اس شخص کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تخت پر پایا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا: اس شخص نے مجھے زندہ کر دیا، اللہ اسے زندہ رکھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو بات کریں گے لیکن انہیں جواب نہیں دیا جائے گا، وہ اس طرح جہنم میں گر پڑیں گے جیسے بندر ایک دوسرے کے اوپر گرتے ہیں۔“ اور میں نے پہلے جمعے میں بات کی تو کسی نے مجھے جواب نہ دیا، تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں میں انہی میں سے نہ ہوں، پھر میں نے دوسرے جمعے میں بات کی تو پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا، تو میں نے اپنے دل میں کہا: میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں، پھر میں نے تیسرے جمعے میں بات کی تو یہ شخص کھڑا ہوا اور اس نے مجھے جواب دیا، تو اس نے مجھے زندہ کر دیا، اللہ اسے زندہ رکھے۔