المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أمية الثقفي، عن معاوية بن أبي سفيان باب: ابوامیہ ثقفی کی سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَالَ: مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدْ تَرَدَّى، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ شَيْئًا فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُمْ صَلُّوا مَعَهُ الْأَوَّلَ ثُمَّ جَلَسُوا، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «مَا بَرَحْتُمْ بَعْدُ؟» ، قَالُوا: لَا، فَقَالَ: «لَوْ رَأَيْتُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَتَحَ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَأَرَى مَجْلِسَكُمْ مَلَائِكَتَهُ يُبَاهِي بِكُمْ وَأَنْتُمْ تَرْقُبُونَ الصَّلَاةَ»ابو امیہ ثقفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھ کر (باہر) نکلے اور فرمایا: اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں۔ پھر وہ چادر اوڑھے ہوئے ہمارے پاس آئے، اور جب عصر کی نماز پڑھ لی تو فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کی تھی؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ پہلی نماز پڑھی، پھر بیٹھے رہے، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم ابھی تک (یہاں سے) نہیں گئے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش تم اپنے رب کو دیکھتے کہ اس نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا اور اپنے فرشتوں کو تمہاری مجلس دکھائی، وہ ان کے سامنے تم پر فخر کر رہا ہے جبکہ تم نماز کا انتظار کر رہے ہو۔“