المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن جبير بن مطعم، عن معاوية باب: محمد بن جبیر بن مطعم کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ قَالَ: بَلَغَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا يُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ ذَلِكَ لِجَهَالِكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، وَلَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا أَكَبَّهُ اللهُ لِوَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ»زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ بیان کیا کرتے تھے، وہ کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قحطان میں سے ایک بادشاہ ہو گا، تو معاویہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، کھڑے ہوئے اور اللہ کی ایسی حمد و ثنا بیان کی جو اسی کے لائق ہے، پھر فرمایا: امّا بعد! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو نہ اللہ کی کتاب میں ہیں اور نہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں، اور یہ محض تمہاری جہالت ہے، پس ان آرزوؤں سے بچو جو اپنے حاملین کو گمراہ کر دیتی ہیں، کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ معاملہ قریش میں رہے گا، اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اسے منہ کے بل گرائے گا جب تک وہ دین قائم رکھیں۔“