المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الزبير المكي محمد بن مسلم، عن أبي أسيد باب: ابوزبیر مکی، محمد بن مسلم، کی سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ يُفْتِي بِالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ وَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَصَاعُ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ، وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ، وَصَاعُ مِلْحٍ بِصَاعِ مِلْحٍ، لَا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ» ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَقُولُهُ بِرَأْيِي وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًاابوالزبیر مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا، اس وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک دینار کے بدلے دو دینار (کے تبادلے) کا فتویٰ دے رہے تھے، تو ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا اور ان سے سخت لہجے میں بات کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ گمان نہ تھا کہ کوئی شخص جو رسول اللہ ﷺ سے میری قرابت جانتا ہے وہ مجھ سے اس طرح کی بات کہے گا، اے ابواسید! تو ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم، گندم کا صاع گندم کے صاع کے بدلے، جو کا صاع جو کے صاع کے بدلے، اور نمک کا صاع نمک کے صاع کے بدلے، ان میں سے کسی چیز میں کوئی کمی بیشی نہیں۔“ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ وہ بات ہے جو میں اپنی رائے سے کہا کرتا تھا اور اس بارے میں میں نے کچھ سنا نہیں تھا۔