حدیث نمبر: 16644
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ يُفْتِي بِالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ وَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَصَاعُ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ، وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ، وَصَاعُ مِلْحٍ بِصَاعِ مِلْحٍ، لَا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ» ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَقُولُهُ بِرَأْيِي وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا
ترجمہ

…میں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص جو رسول اللہ ﷺ سے میرے قرابت کو جانتا ہے وہ مجھ سے ایسی بات نہیں کہے گا، اے ابواسید! تو ابواسید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم، گندم کا صاع گندم کے صاع کے بدلے، جو کا صاع جو کے صاع کے بدلے، اور نمک کا صاع نمک کے صاع کے بدلے، ان میں سے کسی چیز میں کوئی کمی بیشی نہیں۔“ اس پر ابن عباس نے کہا: یہ وہ بات ہے جو میں اپنی رائے سے کہا کرتا تھا اور اس بارے میں میں نے کچھ سنا نہیں تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16644
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 268، حدیث 595