حدیث نمبر: 16641
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاهِبِ الْحَارِثِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ " هَلْ أَبَرُّ وَالِدِيَّ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟، قَالَ: " نَعَمْ، خِصَالٌ أَرْبَعٌ: الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِيفَاءُ عَهْدِهِمَا بَعْدَ وَفَاتِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا "، قَالَ: فَهَذَا الَّذِي بَقِيَ عَلِيَّ
ترجمہ

سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ بدری صحابی تھے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت باقی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، چار چیزیں ہیں: ان دونوں کے لیے دعا کرنا اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنا، ان کی وفات کے بعد ان کے عہد کو پورا کرنا، ان کے دوستوں کی عزت کرنا، اور اس رشتہ داری کو جوڑنا جو صرف انہی کی وجہ سے تمہاری ہے۔“ اس آدمی نے کہا: یہی وہ باتیں تھیں جو مجھ پر باقی رہ گئی تھیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16641
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 267، حدیث 592