المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن زيد، عن أبي أسيد باب: یزید بن زید کی سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ النَّمِرَةَ عَلَى وَجْهِهِ فَتَنْكَشَّفَ قَدَمَاهُ وَيَجُرُّونَهَا عَلَى قَدَمَيْهِ فَيَنْكَشِفُ وَجْهُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا عَلَى وَجْهِهِ، وَاجْعَلُوا عَلَى قَدَمَيْهِ مِنَ هَذَا الشَّجَرِ» ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ» يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُونَ إِلَى الْأَرْيَافِ فَيُصِيبُونَ بِهَا مَطْعَمًا وَمَلْبَسًا وَمَرْكَبًا - أَوْ قَالَ مَرَاكِبَ - فَيَكْتُبُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ: هَلُمَّ إِلَيْنَا فَإِنَّكُمْ بِأَرْضٍ مَجَازٍ جَدُوبَةٍ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا وَشَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "…وہ لوگ چادر کو اس کے چہرے پر کھینچتے تو اس کے پاؤں ننگے ہو جاتے، اور جب اسے پاؤں پر کھینچتے تو اس کا چہرہ کھل جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کے چہرے پر رکھو، اور اس کے پاؤں پر اس درخت (کی پتیوں) سے ڈھانپ دو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ آپ ﷺ کے صحابہ رو رہے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ زرخیز علاقوں کی طرف نکل جائیں گے، وہاں انہیں کھانا، لباس اور سواری — یا فرمایا: سواریاں — میسر ہوں گی، تو وہ اپنے گھر والوں کو لکھیں گے: ہمارے پاس آ جاؤ، کیونکہ تم ایسی زمین پر ہو جو (زندگی کی) گزرگاہ اور خشک سالی کی جگہ ہے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش وہ جانتے، اور جو کوئی اس کی مشقت اور سختی پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی اور گواہ ہوں گا۔“