المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو السوار العدوي، عن جندب باب: ابوالسوار عدوی کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ رَهْطًا وَبَعَثَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ أَوْ عُبَيْدَةَ، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْطَلِقَ بَكَى صُبَابَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ فَبَعَثَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ مَكَانَهُ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَأَ الْكِتَابَ حَتَّى يَبْلُغَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، وَقَالَ: «لَا تُكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الْمَسِيرِ مَعَكَ» ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ اسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَخَبَّرَهُمُ الْخَبَرَ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْكِتَابَ، فَرَجَعَ رَجُلَانِ وَمَضَى بَقِيَّتُهُمْ، فَلَقُوا ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَتَلُوهُ، وَلَمْ يَدْرُوا أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ جُمَادَى، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ قَتَلْتُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ} [البقرة: ٢١٧] الْآيَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ لَمْ يَكُونُوا أَصَابُوا وِزْرًا فَلَيْسَ لَهُمْ أَجْرٌ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}ابوالسوار عدوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ...تو وہ رک گئے اور آپ ﷺ نے عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ان کی جگہ بھیجا، اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا اور حکم دیا کہ وہ خط اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک فلاں فلاں جگہ نہ پہنچ جائیں، اور فرمایا: ”اپنے کسی ساتھی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا“، تو جب انہوں نے خط پڑھا تو انا للہ پڑھا، پھر کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور مانی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بات بتائی اور ان کے سامنے خط پڑھا، تو دو آدمی واپس چلے گئے اور باقی آگے بڑھے، وہ ابن حضرمی سے ملے تو اسے قتل کر دیا، اور انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ دن رجب کا ہے یا جمادی کا، تو مشرکین نے مسلمانوں سے کہا: تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کیا! تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے بارے میں پوچھتے ہیں“ [سورۃ البقرہ: 217] آخر آیت تک، تو بعض لوگوں نے کہا: اگر انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو ان کے لیے کوئی اجر نہیں، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“