حدیث نمبر: 16484
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ كَهْمَسٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجْتُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ حَوْلٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَا تَعْرِفُنِي؟، قَالَ: «لَا» ، قُلْتُ: أَنَا الَّذِي كُنْتُ عِنْدَكَ عَامَ أَوَّلٍ، قَالَ: «فَمَا غَيَّرَكَ بَعْدِي؟» قَالَ: مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِنَهَارٍ مُنْذُ فَارَقْتُكَ، قَالَ: «فَمَنْ أَمَرَكَ بِتَعْذِيبِ نَفْسِكَ، صُمْ يَوْمًا مِنَ السُّرُرِ» ، قُلْتُ: زِدْنِي، فَزَادَنِي حَتَّى قَالَ: «صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ»
ترجمہ

سیدنا کہمس ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ عرصہ آپ ﷺ کے پاس ٹھہرا، پھر واپس چلا گیا، ایک سال بعد دوبارہ حاضر ہوا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے نہیں پہچانتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: میں وہی ہوں جو پچھلے سال آپ کے پاس تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تجھ میں یہ تبدیلی کس نے پیدا کی؟“ میں نے عرض کیا: جب سے میں آپ سے جدا ہوا ہوں دن میں کچھ نہیں کھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اپنی جان کو تکلیف دینے کا حکم کس نے دیا، مہینے کے وسط کے دنوں میں سے ایک دن روزہ رکھا کرو۔“ میں نے عرض کیا: مجھے مزید بتائیے۔ آپ ﷺ نے مجھے مزید بتایا یہاں تک کہ فرمایا: ”مہینے میں تین دن روزے رکھا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16484
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 194، حدیث 435