المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند أبو رهم الغفاري باب: سیدنا ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكٍ، فَلَمَّا قَفَلَ سَرَى لَيْلَةً بِالْأَخْضَرِ، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، وَأُلْقِيَ عَلَيْنَا النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَزَاحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: «حَسِّ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: «سِرْ» ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ وَهُوَ يَسْأَلُنِي: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمُرُ الطِّوَالُ الثَّطَاطُ؟» ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجَرَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نِعَمٌ بِشَبَكَةٍ سُرُحٌ؟» ، قَالَ: فَتَذَكَّرْتُ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللهِ؟، فَإِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلِيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ» . «فَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَبَيْنَ ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ ابْنُ أُكَيْمَةَ»سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی، جب آپ ﷺ واپس لوٹے تو ایک رات اخضر کے مقام پر سفر فرمایا، میں آپ ﷺ کے قریب چل رہا تھا، اور ہم پر اونگھ طاری ہو گئی، میں بار بار چونک کر جاگتا تو دیکھتا کہ میری سواری آپ ﷺ کی سواری کے قریب ہو گئی ہے، اس کا قریب ہونا مجھے گھبرا دیتا، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں رکاب میں آپ ﷺ کے پاؤں کو نہ لگ جائے، تو میں اپنی سواری کو پیچھے کر لیتا، یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی اور میری سواری رسول اللہ ﷺ کی سواری سے رکاب میں ٹکرا گئی اور آپ ﷺ کے پاؤں کو لگ گئی، تو مجھے صرف آپ ﷺ کے ”حَس“ کہنے سے ہوش آیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلتے رہو۔“ پھر نبی کریم ﷺ مجھ سے بنو غفار میں سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں پوچھنے لگے، تو میں نے بتایا، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”لمبے، سرخ رنگ، کم داڑھی والے لوگوں کا کیا بنا؟“ تو میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کی بات بتائی، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کالے، ٹڈی جیسے، چھوٹے قد والوں کا کیا بنا، جن کے مویشی شبکہ میں چرتے ہیں؟“ میں نے بنو غفار میں انہیں یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آئے، یہاں تک کہ مجھے یاد آیا کہ وہ بنو اسلم کی ایک جماعت ہے جو پیچھے رہ گئی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کسی کو کس چیز نے روکا کہ پیچھے رہتے ہوئے بھی اپنے اونٹوں میں سے کسی ایک پر کسی پھرتیلے آدمی کو اللہ کی راہ میں سوار کر کے بھیج دیتا؟ کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ گراں بات یہ ہے کہ میرے اپنے لوگ، قریش کے مہاجرین، انصار، اسلم اور غفار، مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔“
(طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے، اور (زہری اور) ابو رہم کے بھتیجے کے درمیان ابن اُکیمہ کا واسطہ ذکر کیا ہے۔