حدیث نمبر: 16464
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا، فَلَمَّا سِرْنَا لَيْلَةً سِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ فَأُلْقِيَ عَلِيَّ النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي، حَتَّى غَلَبَ عَلَى عَيْنِي بَعْضُ اللَّيْلِ فَزَاحَمَتْ رَاحِلَتِي رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: «حَسِّ» ، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «سِرْ» ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَخْبِرُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي: «مَا فَعَلَ الْحُمُرُ الطِّوَالُ الثَّطَاطُ؟» ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ» ، أَوْ قَالَ: «الْقِصَارُ الْجِعَادُ الثَّطَاطُ الَّذِينَ لَهُمْ نِعَمٌ بِشَبَكَةٍ سُرُحٌ؟» ، قَالَ: فَذَكَرْتُ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ، حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ قَدْ تَخَلَّفُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللهِ؟، فَإِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلِيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ، مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ»
ترجمہ

سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی سواری کو پیچھے رکھتا، یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی اور میری سواری نبی کریم ﷺ کی سواری سے ٹکرا گئی، رکاب میں ان کے پاؤں کو لگ گئی، تو مجھے صرف آپ ﷺ کے ”حَس“ کہنے سے ہوش آیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلتے رہو۔“ پھر نبی کریم ﷺ مجھ سے بنو غفار میں سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں پوچھنے لگے تو میں انہیں بتاتا، اتنے میں آپ ﷺ نے پوچھا: ”لمبے، سرخ رنگ، موٹے تڑنگے لوگوں کا کیا بنا؟“ تو میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کی بات بتائی، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کالے لوگوں کا کیا بنا“، یا فرمایا: ”چھوٹے قد، گھونگھریالے بالوں والے، موٹے تڑنگے لوگوں کا، جن کے پاس ایک جگہ میں چرتے ہوئے مویشی ہیں؟“ میں نے بنو غفار میں انہیں یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آئے، یہاں تک کہ مجھے بنو اسلم کا ایک قافلہ یاد آیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بنو اسلم کا ایک قافلہ ہے جو پیچھے رہ گیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ان میں سے کسی کو کیا چیز روکتی تھی کہ پیچھے رہتے ہوئے بھی اپنے اونٹوں میں سے کسی ایک پر کسی پھرتیلے آدمی کو اللہ کی راہ میں سوار کر کے بھیج دیتا؟ کیونکہ مجھے سب سے زیادہ عزیز وہ لوگ ہیں جو قریش کے مہاجرین، انصار، اسلم اور غفار میں سے میرا ساتھ نہ چھوڑیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16464
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 183، حدیث 415