حدیث نمبر: 16350
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْنَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ شَأْنُكَ؟، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَوَقَعَ الْقَمْلُ فِي رَأْسِي وَلِحْيَتِي وَشَارِبِي حَتَّى وَقَعَ فِي حَاجِبَيَّ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى بَلَغَ بِكَ هَذَا، ادْعُ الْحَلَّاقَ» ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَجِدُ نَسِيكَةً؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ» ، فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَلِلنَّاسِ عَامَّةً .
ترجمہ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں نکلے، تو میرے سر، داڑھی اور مونچھوں میں جوئیں پڑ گئیں یہاں تک کہ میری بھنووں میں بھی آ گئیں، تو یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ تجھے اس حد تک تکلیف پہنچی ہے، حجام کو بلاؤ۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے حجام کو بلایا اور اس نے میرا سر منڈوا دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس قربانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تین دن روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع۔“ چنانچہ یہ آیت خاص طور پر میرے بارے میں اور عام طور پر لوگوں کے لیے نازل ہوئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16350
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 136، حدیث 300