حدیث نمبر: 16283
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، فَقَالَ: «آذَتْكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟» ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَيَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينٍ أَوْ يَنْسُكَ. قَالَ سُفْيَانُ: " فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: ١٩٦] "
ترجمہ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں تکلیف دی؟“ تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ سر منڈوائیں اور تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو ایک فرق کھلائیں یا قربانی کریں۔
سفیان کہتے ہیں: تو یہ آیت نازل ہوئی: ”پھر تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو“ [سورۃ البقرہ: 196]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16283
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 113، حدیث 233