حدیث نمبر: 16046
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الحِنَّائِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَا: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] انْطَلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَخْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا ثُمَّ قَالَ: " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُم كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِلَى أَهْلِهِ فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَاحِبَاهُ، يَا صَاحِبَاهُ أُتِيْتُمْ أُتِيْتُمْ "
ترجمہ

سیدنا زہیر بن عمرو اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ [سورۃ الشعراء: 214]، تو نبی اللہ ﷺ ایک پہاڑ کی چوٹی کی طرف روانہ ہوئے اور اس کی سب سے اونچی چٹان پر چڑھ گئے، پھر فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! میں ایک ڈرانے والا ہوں، میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو اپنے گھر والوں کو خبردار کرنے کے لیے دوڑا، اسے ڈر ہوا کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک نہ پہنچ جائے، تو وہ پکارنے لگا: اے میرے ساتھیو! اے میرے ساتھیو! دشمن آ گیا، آ گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16046
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 374، حدیث 956