المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جبير بن نوفل غير منسوب باب: سیدنا جبیر بن نوفل رضی اللہ عنہ، جن کا سلسلہ نسب معلوم نہیں
حدیث نمبر: 1601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، أَوْ أَكْثَرَ، وَالْبِرُّ يَتَنَاثَرُ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ، مَا كَانَ فِي صَلَاةٍ، وَمَا عَبْدٌ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ» يَعْنِي الْقُرْآنَترجمہ
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو کسی چیز کی اتنی اجازت نہیں دی جتنی دو رکعت، یا اس سے زیادہ (پڑھنے) کی، اور جب تک بندہ نماز میں ہوتا ہے نیکی اس کے سر کے اوپر بکھرتی رہتی ہے، اور بندہ اللہ عزوجل کے نزدیک اس سے بہتر کوئی چیز پیش نہیں کرتا جتنی وہ چیز جو اس (کی زبان) سے نکلے“ یعنی قرآن۔