حدیث نمبر: 15965
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، ثَنَا إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ النُّعْمَانِ السَّكُونِيَّ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِيَانِ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرُّوا بِرَاعٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مِنْ شَاةٍ ضَرَبَهَا الْفَحْلُ؟» قَالَ: لَا، وَلَكِنْ هَهُنَا شَاةٌ قَدْ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ، قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا» فَأَتَاهُ بِهَا فَمَسَحَ ضَرْعَهَا وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، فَحَلَبَ فَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ حَلَبَ فَسَقَى الرَّاعِي ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ، فَقَالَ لَهُ: تَالَلَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ، مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «إِنْ أَخْبَرْتُكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشُ أَنَّكَ صَابِئِيٌّ؟ قَالَ: أَنَّهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ وَإِنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى مَا فَعَلْتَ إِلَّا رَسُولٌ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَتَّبِعُكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الْيَوْمَ فَلَا، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا فَائْتِنَا» فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا ظَهَرَ بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ

سیدنا قیس بن نعمان سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ قریش سے چھپتے ہوئے روانہ ہوئے، تو ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا کوئی ایسی بکری ہے جس پر نر چڑھا ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، البتہ یہاں ایک بکری ہے جسے کمزوری نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ وہ اسے لے آیا، آپ ﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی، پھر دودھ دوہا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پلایا، پھر دودھ دوہا اور چرواہے کو پلایا، پھر دودھ دوہا اور خود پیا۔ چرواہے نے آپ سے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تم جیسا کوئی نہیں دیکھا، تم کون ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں تمہیں بتاؤں تو کیا تم میرا راز چھپاؤ گے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد، اللہ کا رسول ہوں۔“ اس نے کہا: کیا تم وہی ہو جس کے بارے میں قریش کہتے ہیں کہ تم بے دین (صابئی) ہو گئے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا کہتے ہیں۔“ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کے رسول ہو، اور جو کچھ تم نے کیا اس پر رسول کے سوا کوئی قادر نہیں۔ پھر اس نے عرض کیا: کیا میں تمہاری پیروی کروں؟ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”آج تو نہیں، البتہ جب تم سنو کہ ہمیں غلبہ مل گیا ہے تو ہمارے پاس آ جانا۔“ چنانچہ مدینہ میں غلبہ ملنے کے بعد وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 15965
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 343، حدیث 874