المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أم الدرداء، عن فضالة بن عبيد باب: سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 15916
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَبَرَدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ. وَزَعَمَ أَنَّهَا دَعَوَاتٌ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»ترجمہ
ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلے کے بعد رضا مانگتا ہوں، موت کے بعد ٹھنڈی زندگی، تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت، اور تیری ملاقات کا اشتیاق، بغیر کسی نقصان دہ تکلیف کے اور بغیر کسی گمراہ کن فتنے کے۔“ اور ان کا خیال تھا کہ یہ وہی دعائیں ہیں جو نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے۔