❮
❯
حدیث نمبر: 15862
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابُلُتِّيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكٍ، فَجَهَدَ الظَّهْرُ جَهْدًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَيْهِ ذَلِكَ وَرَآهُمْ رِجَالًا لَا يُرِيحُونَ ظَهْرَهَمْ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضِيقٍ يَمُرُّ النَّاسُ فِيهِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونُ فَنَفَخَ فِيهَا، فَقَالَ: «اللهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ، فَإِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ، وَالرَّطْبِ وَالْيَابِسِ، فِي الْبَحْرِ وَالْبَرِ» فَاسْتَمَرَّتْ فَمَا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ إِلَّا وَهِيَ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا
ترجمہ

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کیا تو سواری کے جانور سخت تھک گئے۔ لوگوں نے آپ سے اس کی شکایت کی، اور آپ نے دیکھا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی سواریوں کو آرام نہیں دیتے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک تنگ راستے کو دیکھا جہاں سے لوگ گزر رہے تھے، آپ وہاں کھڑے ہو گئے جبکہ لوگ گزر رہے تھے، پھر آپ نے ان (سواریوں) میں پھونک ماری اور فرمایا: ”اے اللہ! ان پر اپنی راہ میں سوار کرا، کیونکہ تو ہی طاقتور اور کمزور پر، تر اور خشک پر، سمندر اور خشکی میں سوار کراتا ہے۔“ چنانچہ وہ سواریاں مسلسل چلتی رہیں، یہاں تک کہ ہم مدینہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ ہم سے اپنی نکیلیں کھینچ رہی تھیں (یعنی تیز چلنا چاہتی تھیں)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الفاء / حدیث: 15862
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 300، حدیث 771