المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب مولى ابن عباس، عن الفضل بن عباس باب: کریب، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ بِوَتَدٍ فِي الْجِدَارِ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ، وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ قَرَأَ الْخَمْسِينَ آيَةً مِنْ آلِ عِمْرَانَ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّماوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ} [البقرة: ١٦٤] فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلْ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي سَجْدَةً وَاحِدَةً فَأَوْتَرَ بِهَا، وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ "سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس رہا تاکہ دیکھوں کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ آپ ایک ایسے مشکیزے کی طرف اٹھے جو دیوار میں گڑی ایک کھونٹی سے لٹکا ہوا تھا، وضو کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ کا قیام آپ کے رکوع جتنا تھا اور آپ کا رکوع آپ کے سجدے جتنا تھا، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو وضو کیا اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، پھر سورۃ آل عمران کی وہ پچاس آیتیں پڑھیں جن میں ہے: ”بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے آگے پیچھے آنے میں (نشانیاں ہیں)“ [سورۃ آل عمران: 190]۔ آپ یہی عمل کرتے رہے یہاں تک کہ دس رکعتیں پڑھ لیں، پھر اٹھے اور ایک رکعت پڑھی جس سے وتر مکمل کیا، اسی وقت اذان دینے والے نے اذان دی۔ رسول اللہ ﷺ مؤذن کے خاموش ہونے کے بعد اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھی۔