المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن يسار، عن ابن عباس، عن الفضل باب: سلیمان بن یسار کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 15817
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يُغْنِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے سال قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی کریم ﷺ سے مسئلہ پوچھنے آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کردہ حج میرے والد کو اس حال میں ملا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے، کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا انہیں کافی ہوگا؟ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“