المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو طليحة مولى بني خلف، عن عمران بن حصين باب: ابوطلیحہ، بنو خلف کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي الْوَلِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي طُلَيْحَةَ، مَوْلَى بَنِي خَلَفٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ أَيَّامَ غَزْوَةِ تَبُوكٍ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، وَالْقُوَّةِ وَالتَّأَسِّي، وَكَانَتْ نَصَارَى الْعَرَبِ كَتَبُوا إِلَى هِرَقْلَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ يَنْتَحِلُ النُّبُوَّةَ قَدْ هَلَكَ وَأَصَابَتْهُمْ سُنُونَ فَهَلَكَتْ أَمْوَالُهُمْ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَلْحَقَ دِينَكَ فَالْآنَ، فَبَعَثَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يُقَالُ لَهُ: الضَّنَادُ وَجَهَّزَ مَعَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ فِي الْعَرَبِ وَكَانَ يَجْلِسُ كُلَّ الْيَوْمِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَدْعُو اللهَ وَيَقُولُ: «اللهُمَّ إِنْ تَهْلَكَ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ» فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ قُوَّةٌ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَهَّزَ عِيرًا إِلَى الشَّامِ يُرِيدُ أَنْ يَمْتَارَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ مِئَتَا بَعِيرٍ بِأَقْتَابِهَا وَأَحْلَاسِهَا، وَمِئَتَا أُوقِيَّةٍ، فَحَمِدَ اللهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَامَ مَقَامًا آخَرَ وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَاتَا مِئَتَانِ وَمِئَتَا أُوقِيَّةٍ، فَكَبَّرَ اللهَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، وَأَتَى عُثْمَانُ بِالْإِبِلِ، وَأَتَى بِالْمَالِ، فَصَبَّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَضُرُّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ»… جب یہ بات اللہ کے نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے عرب میں لکھا، اور روزانہ منبر پر بیٹھ کر اللہ سے دعا کرتے اور فرماتے: ”اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“ لوگوں کے پاس کچھ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف ایک قافلہ تیار کر رکھا تھا جس سے وہ سامان لانا چاہتے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ دو سو اونٹ ہیں اپنے پالانوں اور جھولوں سمیت، اور دو سو اوقیہ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی حمد بیان کی اور لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ ﷺ ایک اور مقام پر کھڑے ہوئے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ، یہ مزید دو سو اونٹ اور دو سو اوقیہ ہیں۔ تو آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ لے آئے اور مال بھی لے آئے، اسے آپ ﷺ کے سامنے ڈال دیا، تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”آج کے بعد عثمان جو بھی کرے اسے نقصان نہ دے گا۔“