حدیث نمبر: 15595
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سِكِّينٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا وَمِنْهُ وَقَارٌ لِلَّهِ، فَقَالَ عِمْرَانُ لِبَشِيرٍ: " تَسْمَعُنِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: مِنْهُ ضَعْفٌ وَمِنْهُ وَقَارٌ "، وَغَضِبَ فَقَالَ: «لَا أُحَدِّثُكُمُ الْيَوْمَ بِحَدِيثٍ»
ترجمہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”حیا سراسر خیر ہے۔“ تو بشیر بن کعب نے کہا: اس میں سے کچھ کمزوری بھی ہے اور کچھ اللہ کے لیے وقار بھی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے بشیر سے فرمایا: ”تم مجھے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے سنتے ہو اور کہتے ہو کہ اس میں کچھ کمزوری ہے اور کچھ وقار ہے“، اور وہ ناراض ہو گئے اور فرمایا: ”آج میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15595
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 205، حدیث 504