حدیث نمبر: 15561
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَذْكُرُ لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «أَصَدَقَ هَذَا؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ "
ترجمہ

… پھر آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے، تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا، آپ ﷺ کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ - اور اس نے وہ بات بیان کی جو ہوئی تھی - تو آپ ﷺ غصے میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، یہاں تک کہ لوگوں کے پاس پہنچے، اور فرمایا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15561
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 195، حدیث 470